شاہین عباس ۔۔۔   اے تصویر انسان​

اے تصویر انسان​

(۱)

کوئی کوئی دن
سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے
اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں
کبھی کبھی کا جھونکا سا دن
کئی کئی دن چلتا ہے
سِن اندرسِن
سال اندرسال
قرنوں اندر قرن الٹتا
قرن پلٹتا
بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا
جسم ہیولوں سا اک چولا
دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ،
تو جیسے دنیا کے نقشے پر
گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے
دن جیسے ، دن کم ہو، اور انسان زیادہ
کبھی کبھی گھڑ یوں کا گھیرا

سوئیوں اور سلاخوں کی
تاریخ بدل کر رکھ دیتا ہے
کبھی کبھی انسان کا پھیرا
تیرے تصویرِ انسان کا پھیرا
ایک گزر گزران سے آگے بڑ ھ جاتا ہے
شام کو جب یہ پھیرا رکتا ہے
اور گھیرا ٹوٹتا ہے
تو دانہ چونچ میں ہوتا ہے
چونچ دبا کر، دن واپس اڑ جاتا ہے
قبلہ کی چوکور ہو
یا گنبد کی گولائی
سب خالی رہ جاتا ہے

(۲)

بادشہوں کی مہروں والی ڈاک سے مشکل کم نہیں ہوتی
بڑ ھ جاتی ہے
چلتے چلتے

ایک لہو سے اگلے لہو کی آبادی میں
میں نے گھر اور گلیاں دیکھیں
ایک عبارت کا غوغا تھا
میں نے گھروں کی محکومی میں
صدی صدی کا ہجر گزارا
سونا چاندی اور کرنسی کے گھاٹے میں
نیکی بدی کا بھاؤ بدلا
ڈاک اُٹھاتی آنکھوں میں چھپ چھپ کر رویا
مجھے عبارت کا غوغا تسلیم نہیں تھا
بادشہوں کی مہروں
اور مرادوں والی ڈاک کو میں نے
سیدھے ہاتھ کے سچ میں پرکھا
جھوٹ کا جالا
جھوٹ کا نالہ
سطروں کی معیاد میں شامل
نقطہ نقطہ زہر بھرا تھا
سوئیوں اور سلاخوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی تو
تصویرِ انساں
زنجیر سمے کی تال دھمال میں گردن گردن
ڈوب چکا تھا
پہلے پیار کے پہلے نور کا رقصِ مسلسل
پہلا پرسہ
پہلا دلاسہ سب طرفوں کا

آخری حرفوں کا پہرہ ، تصویرِ انساں
اے تصویر انساں
تیرے پروں کے رنگ اجازت دیں تو میں بھی
تیرے گنبد کے گھیرے میں آؤں
اپنی سزا کا فیصلہ سننے
تیرے پاؤں پڑ جاؤں

(۳)

سجدہ سجدہ زہر کی چھاؤں پھیل گئی ہے
قبلہ کی چوکور میں کتنے نور انوار شہید ہوئے ہیں ؟
کس کس گھر پر تالا پڑ ا ہے ؟
کسے پتہ ہے
صبحِ شہادت گزرے تو اندازہ ہو
یہ سورج کتنا سرخ ہے ؟
کتنا کالا ہے ؟
دُنیا دارو!
نیکی کس دُنیا داری کی نذر ہوئی؟
کون شکاری
اندر باہر
باری لینے آیا ہے ؟
حاضری اور حضوری والی لڑ یاں ٹوٹ گریں
اور، دُولہا دُلہن

پہلی رات اور پہلی بات کی دُوری پر
صدی صدی کے کاٹھ کباڑ میں
نیکی بدی کی گانٹھیں ڈھوتے
سارے مشرق
سارے مغرب
گھوم آئے ہیں
پہلی رات اور پہلی بات کی خونیں گرہیں
کس کس اُنگلی کے ناخن سے کھلیں گی
کون بتائے
دُولہا کن کن حرفوں سے
دُلہن کے پہلو میں آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related posts

Leave a Comment